دُختِ کرام — Page 482
پھول تھی، خوشبو تھی ، دھیمی چاندنی کا نور تھی آج جتنی دُور ہے اتنی بھلا کب دُور تھی میں نے دیکھی ہے فراست میں فراوانی تیری تھول سکتی ہوں بھلا پیشانی وہ نورانی تیری اپنی باتوں سے سدا کرتی تھی مجھ کو مستفیض عمر بھر دیکھا نہیں میں نے کوئی تجھ سا مریض جس طرح جگنو چمک کر راہ دکھاتے دُور تیری پیشانی چمکتی تھی ضیا کے نور سے جو مقرب تھے تیرے وہ فیض تیرا پاگئے رفتہ رفتہ اپنے رب کی عافیت میں آگئے ایسے لگتا ہے بہت خالی ہیں ہم تیرے بغیر آگئے ہیں یاد ہم کو سارے غم تیرے بغیر آج تپتی دھوپ سر پر ساتیاں کوئی نہیں باغ میں لگتا ہے جیسے باغباں کوئی نہیں پھول سا چہرہ پڑا ہے مانداک زیر زمیں دفن کرنے آتے ہیں ہم چاند اک زیر زمین آسمان خود آج تیری فاتحہ کو ٹھک گیا وقت صدیوں بعد جیسے لمحہ بھر کو رک گیا