دُختِ کرام — Page 41
۲۹ دلانے کے لیے کیا طریق اختیار کرنا چاہیتے اس نے جواب دیا کہ اس کے لیے تین باتوں کی ضرورت ہے۔اول ذاتی نمونہ۔دوم ذاتی نمونہ۔موم ذاتی نمونہ یعنی والدین کا ذاتی نمونہ اور اخلاقی نمونہ بچوں کے لیے ایسی اہمیت رکھتا ہے کہ بسا اوقات یہ اکیلی چیز ہی ان کی تربیت کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔سو حضرت مسیح موعود اور حضرت اماں جان کا بہترین ذاتی نمونہ ذریت طیبہ کے لیے ہمیشہ قابل تقلید رہا۔اللہ تعالیٰ کی بشارتوں۔حضرت مسیح موعود کی ان گنت دُعاؤں۔والدین کی تعلیم و تربیت اور ان کے ذاتی نمونہ نے ساری اولاد کو چار چاند لگا دیتے اور حضرت مسیح موعود کے ان شعروں کے مصداق سے اسے میرے دل کے جانی اسے شاہ دو جہانی کر ایسی مہربانی۔ان کا نہ ہووے ثانی دے بخت جاودانی اور فیض آسمانی یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَن يراني دو یہ سب عدیم النظیر خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہوئے۔اور شمال شیر و و کردار کا ایک ایسا مرقع کہ کسی بھی جہت سے ان میں کوئی جھول نہ تھا اور صحیح معنوں میں واجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کی تفسیر اور پھر ان سب نے اپنی اپنی اولاد کی تربیت بھی اپنی زاویوں پر کی۔اور حضرت سیدہ دخت کرام نے بھی تربیت اولاد کے سلسلہ میں دیگر عوامل کے علاوہ سب سے پہلے اپنا ذاتی نمونہ پیش کیا۔اور