دُختِ کرام — Page 37
۲۵ مسیح موعود علیہ السلام نے خصوصیت کے ساتھ اپنی اولاد کے لیے اس در دو سوز اور اس آہ وزاری کے ساتھ دعائیں کی ہیں کہ شاید ہماری کمزوریاں تو ان دعاؤں اور ان بشارتوں کی حقدار نہ ہوں مگر پھر کہتا ہوں کہ خدا کی دین کو کون روک سکتا ہے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس عجیب و غریب شعر کو یاد کرتا ہوں کہ سے تیرے اسے میرے مرنی کیا عجائب کام ہیں گرچہ بھا گئیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے شمار خدا کرے کہ ہم ہمیشہ نیکی اور دینداری کے رستہ پر قائم رہیں اور جب دنیا سے ہماری واپسی کا وقت آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اتاں جان کی روحیں ہمیں دیکھ کر خوش ہوں کہ ہمارے بچوں نے ہمارے بعد اپنے آسمانی آقا کا دامن نہیں چھوڑا۔دوستوں سے بھی میری یہی درخواست ہے کہ جہاں وہ اپنی اولاد کیلئے دین اور دنیا کی بہتری کی دُھنا کریں اور کوئی احمدی کسی حالت میں بھی اس دُعا کی طرف سے فاضل نہیں رہنا چاہیئے ، وہاں وہ ہمارے لیے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ صدق و سداد پر قائم رکھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان دُعاؤں کو جو حضور نے اپنی اولاد کے لیے فرماتی ہیں۔اور نیز ان دعاؤں کو جو حضور نے اپنی جماعت کے متعلق فرماتی ہیں۔اور پھر ان بشارتوں کو جو خدا کی طرف سے حضور کو اپنی اولاد اور اپنی جماعت کے متعلق ٹی میں بصورت احسن پورا فرماتے اور ہماری کوئی کمزوری ان خدائی