دُختِ کرام — Page 437
۴۲۵ کرتی ہیں کہ جاؤ اندر سے میرا ایک جوڑا لاؤ اور روبی کو دے دو۔وہ اندر سے جوڑا لاتی ہے اور حضرت بیگم صاحبہ مجھے اپنے ہاتھوں سے عنایت کرتی ہیں اور سر پر دست شفقت رکھتی ہیں اس جوڑے کا رنگ فاختی (گرے) ہوتا ہے انس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے۔عجیب خواب تھا۔تمام راستے وہ میرے ذہن میں فلم کی طرح آتا رہا کراچی پہنچ کر سب سے پہلے میں نے حضرت بڑی امی جان کو خط لکھا اور خواب بھی لکھ دیا۔ایک سال کے بعد میں ریوہ گئی اور بڑی اتنی جان کی خدمت میں حاضر ہوئی میرے ساتھ میری امّی اور بیٹی سعدیہ بھی تھی۔اس وقت بڑی امی جان صوفے پر اپنے کمرے میں بیٹھی تھیں اور ایک پیڑھی پر پاؤں رکھے ہوتے تھے۔میری بیٹی آپ کے مبارک قدموں میں میٹھے گئی اور آپ کے پاؤں چھیڑنے لگی میں نے منع کرنا چاہا تو حضرت بری امی جان فرمانے لگیں کہ کھیلنے دو بیچی ہے اور میری امی سے فرمانے لگیں کہ منظر بی۔میں تمھیں بہت یاد کرتی ہوں مگر تم مجھے ملنے نہیں آتی ہو۔یہ شنکر میری کیفیت مجیب طرح کی ہو گئی کہ ہم حقیر اور نا چیز سے بندے ہیں اور یہ ایک بہت بڑی ہستی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دختر مبارک ہیں۔پھر بھی ہمیں یاد کرتی ہیں یہ سوچ کر میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے مجھے روتے دیکھ کر فرمانے لگیں۔تمہارا خط مل گیا تھا۔میں نے تمہارے لیے جوڑا رکھا ہوا ہے۔پھر خالہ بیٹی سے فرمایا۔لا و میلی اپنی بیٹی کا سوٹ