دُختِ کرام — Page 353
۳۱ دیدہ ور "۔اپنے اندر ایک خاص خوشبور جاتے ہوئے جو اپنی موجودگی منوا لیتا ہے۔جب وہ مجھے دکھتی تھیں تو مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا وہ مجھے میرے اندر سے دیکھ رہی ہیں۔زبان سے ان کے سامنے جھوٹ بولنے کی طاقت سلب ہو جاتی تھی۔ان کے پاس جا کر یوں محسوس جا ہوتا تھا کہ جیسے چاندنی رات میں ساحل سمندر پر ننگے پیر چل رہی ہوں سمندر کے کنارے شور ہوتا ہے اور چاندنی رات میں جوار بھاٹا ہوتا ہے وہاں مجھے خاموشی اور سکون محسوس ہوتا تھا۔لہریں تو اٹھتی تھیں، لیکن ساحلوں کو سیراب کرنے کے لیے میرے لیے اس عظیم ہستی کے قرب کا احساس ہی بہت کافی تھا۔ئیں کیسے دکھتی کہ وہ کیا ہیں۔ان کے تصور کے ساتھ جگنو ، سبزہ روشنی پھوار اور پھول ہی وابستہ تھے۔وہ ہم سب کے لیے تھیں ہی اتنی عظیم مکرم و محترم۔ان کا مقام میری نظر میں ہی نہیں سب اہل جماعت کے لیے بہت ہی اُونچا ہے۔وہ اس شخص کی اولاد میں سے سب سے چھوٹی تھیں جس کے نقش قدم پر چل کر ہم نے احمدیت ایسی نعمت حاصل کی ہے یہ اولاد سب کی سب موتیوں میں تو لے جانے کے لائق تھی ئیں اب عمر کے ایسے حصے میں ہوں جب دل و نگاہ نوادرات و جواہرات کی قدر کرنا سیکھتے ہیں۔میری نگاہوں نے جن مناظر کی عکس بندی کی ہے وہ معدودے چند ہیں آیتے انہیں آپ بھی میرے ساتھ دیکھتے۔میرے بچوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ سب سیدہ موصوفہ سے شرف