دُختِ کرام

by Other Authors

Page 329 of 497

دُختِ کرام — Page 329

۳۱۷ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے ایک مقام کی تفسیر کے بیان میں ہمیشہ ہمیش کے لیے زندہ جاوید کر دیا ہے :- حضرت عیسی کی نسبت لکھا ہے کہ وہ مہد میں بولنے لگے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ پیدا ہوتے ہی یا دو چار مہینہ کے بولنے لگے اس سے یہ مطلب ہے کہ جب وہ دو چار برس کے ہوتے کیونکہ یہ وقت تو بچوں کا پنگھوڑوں میں کھیلنے کا ہوتا ہے اور ایسے بچنے کے لیے باتیں کرنا کوئی تعجب انگیز امر نہیں۔ہماری لڑکی امتہ الحفیظ بھی بڑی باتیں کرتی ہے۔" ( تفسير آل عمران م۳ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فرمان ایک قرآنی صداقت کے اظہار کے علاوہ اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ آپ ایک محبت کرنے والے باپ تھے اور جیسے ہر محبت کرنے والا باپ اپنی اولاد کی بچپن کی حرکات اور خصوصیات کو قلبی محبت سے یاد رکھتا ہے اور ان کو بیان بھی کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود نے بھی ہماری پھوپھی کی خداداد ذہانت اور ہوش مندی کو یاد رکھا اور اس کو ایک قرآنی آیت کی تفسیر میں بیان کر کے ہماری پھوپھی کو حیاتِ جاوداں بخشی۔ایک روایت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ساتھیوں کے ساتھ سیر کے لیے تشریف لے جانے لگے تو خادمہ نے آکر اطلاع دی کہ حضرت اماں جان فرماتی ہیں کہ امتہ الحفیظ دور ہی ہیں اور بضد ہیں کہ اپنے