دُختِ کرام — Page 323
اس جذبے کی بے حد قدر کی۔میرے ابا ایک سادہ درویش صفت انسان تھے اور امی ان کے مقابلے میں بہت ذہین ادبی ذوق رکھنے والی - شاعرانہ مزاج۔دونوں کے طبائع میں بہت تفاوت تھا ، لیکن آتی نے اس تعلق کو اس خوبصورتی سے نبھایا کہ ابا اتی ہمارے خاندان میں شامی جوڑا گنے جاتے تھے۔امی نے ہمیشہ ابا کے فطرتی حسن پر نظر کی اور طبیعیتوں کے تفاوت کو محبت کے پردوں میں ڈھانکے رکھا۔آج کل کی نوجوان نسل چھوٹی چھوٹی باتوں کو وجہ اختلاف بنا کر گھر برباد کر لیتی ہے ان کے لیے لیے تک امی کا نمونہ مشعل راہ ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔شاعری سے بھی بہت میں تھا۔شعر کہ بھی نہیں لیکن اس کا اظہار پسند نہ فرماتیں اس بارہ میں طبیعت میں حجاب تھا۔ادھر ادھر ڈائریوں میں تو آپ کے شعر پڑھے لیکن امی کی زبان سے کبھی نہیں کسنے۔امی کے حجاب کی وجہ سے مجھے بھی کبھی پوچھنے کی جرات نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔آیا کا اپنا کوئی ذاتی کام نہ تھا۔ابا حضور کی طرف سے کچھ جیب خروج لمتا تھا۔اسی میں انتہائی خوش اسلونی