دُختِ کرام — Page 298
صرف دو دن زندہ رہیں۔میری بہن فوزیہ بھی لاہور سے آتی ہوتی تھی۔میرے بھائی عباس احمد صاحب اور مصطفیٰ اور میری بہن شاہدہ یہ سب ہی دو دن پہلے ہی ہو کر گئے تھے۔شام سے بہت دل گھتا تھا وہ ادھر ادھر کی باتیں شاکر امی کو بہلاتی رہتی تھی۔مجھے آکر امی بہت ہی کمر در لگیں حالانکہ چند دن ہی گزرے تھے مجھے گئے ہوتے ہیں نے گلو کو کہا کہ امی تو مجھے غیر معمولی کمزور لگی ہیں اس نے بتایا کہ کھانا پینا بالکل چھوڑ دیا ہے یہاں تک کہ اب لیکوڈ بھی لینے سے انکار کر دیتی ہیں ادھر ڈاکٹر صاحب کی ہدایت تھی کہ دوائی خالی پیٹ نہیں دینی دوپہر کا کھانا مرضی کے سوپ میں ذرا سا توس نرم کر کے ایک چمچہ گو نے بہت مشکل سے امی کو دیا اس کے بعد امی نے بالکل انکار کر دیا۔گو نے پلیٹ میرے ہاتھ میں دے دی منتھلی آیا مجھ سے تو اقی نہیں کھائیں۔آپ کوشش کریں۔میں نے گلو کو کہا کہ جب تم سے نہیں کھار میں تو مجھ سے کب کھائیں گی کہنے لگی آپ کوشش تو کریں۔میں پلیٹ لے کراتی کے پاس آئی اور کہا کہ امی آپ نے گلو سے ایک نوالہ لیا ہے ایک مجھ سے بھی لے میں میری امی میری پیاری امی نے نہ چاہتے ہوتے بھی صرف میری دلداری کے لیے منہ کھول دیا وہ آخری خدمت آخری نوالہ تھا جو میں نے اپنی پیاری امّی کے منہ میں ڈالا۔سب امی کے کمرے میں موجود تھے امی کو پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی تو کیا تم لوگ ذرا باہر بیٹھو ہم آکر ہال میں میٹھے گئے۔گھر پیشاب کے