دُختِ کرام — Page 257
۲۴۵ بیماری اتنی سخت کہ بے حساب خرچ ہو رہا تھا۔مردوں کی طرح امی جان نے اس وقت بڑا حوصلہ دکھایا۔روپے کا انتظام کرنا اور پھر ابا جان کا بھی مطرح سے خیال رکھنا۔تاکہ علاج میں کوئی کمی نہ رہ جائے بعض وقت لاہور کے چوٹی کے پانچ چھے ڈاکٹروں کا بورڈ بیٹھتا تھا۔اخراجات بہت زیادہ تھے گرامی نے ابا جان کو بالکل محسوس نہیں ہونے دیا۔ہمیشہ اپنی بشاشت کو قائم رکھا۔آپ کی صحت بہت کمزور تھی۔مگر باوجود اس کے اتنی محنت کی کہ بعض وقت ابا جان کے پاٹ تک خود اُٹھاتے کیونکہ پرانے نوکر تو پارٹیشن کے وقت ادھر اُدھر بکھر گئے تھے اور نئے نوکر اول تو ملتے نہیں تھے اور اگر ملتے بھی تھے تو اتنے بددماغ کہ ایسے کام کرنے سے انکاری - شروع بیماری میں تو ہم سب بہنیں پاس ہی رہیں دو دو تین تین گھنٹے سب باری باری دن اور رات ڈیوٹی دیتے تھے مگر کہاں تک ٹھر سکتے تھے پھر سارا بوجھ اتنا عرصہ امی جان نے ہی اُٹھایا۔مگر بہت بشاشت اور ہمت کے ساتھ اور ابا جان کو اپنی کسی تکلیف کا احساس تک نہیں ہونے دیا۔بحیثیت ماں بحیثیت ماں جب میں امی جان کے متعلق سوچتی ہوں تو بہت ہی شفیق محبت کرنے والی اور بچوں کے لیے بہت ہی قربانی کرنے والی پانی ہوں۔امی جان کی شادی بہت ہی چھوٹی یعنی چودہ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔پندرہویں سال میں تھیں جب میری پیدائش ہوئی اور اوپر تلے عزیزم