دُختِ کرام — Page 18
بسا اوقات ان میں کبر و غرور پیدا ہو جاتا ہے اور وہ کسی کو خاطر می نہیں وہ میں لاتے۔سید نا حضرت مسیح موعود کی ساری اولا د جماعت احمدیہ کے افراد کے لیے باعث صد تعظیم و احترام رہی ہے اور تعظیم و تکریم کسی دینوری غرض کی مرہونِ منت نہیں ہے۔بلکہ حضرت مسیح موعود کی اولاد ہونے اور مبشر ذریت طیبہ کا اعزاز پانے کی وجہ سے جماعت کا ہر فرد کی تعظیم واحترام دل کی اتھاہ گہرائیوں سے کرتا ہے لیکن اس عزت و احترام میں بہت بڑا دخل اس اولاد میں پائے جانے والے ان غیر معمولی اوصاف حمیدہ اور اخلاق عالیہ کا بھی یقینا ہے جن کی وجہ سے جماعت کا ہر فرد ان کی طرف کھنچا چلا آتا ہے اور خَالَفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ کا نظارہ نظر آتا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری اولاد میں دنیا داروں والے کبر و غرور یا تعلی کا شائبہ تک نظر نہیں آتا بلکہ اس کے برعکس خاکساری - فروتنی - تبتل الی اللہ اور عاجزی و انکساری ان میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں اور میں کسی کو بھی ان میں سے یا کسی سے بھی ملنے کا اتفاق ہوا وہ اس امر کا اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ حضرت مسیح موعود کی اولاد کا ہر فرد عباد الرحمان کے اوصاف کا حامل تھا اور ملنے والے ان کے اخلاق عالیہ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے تھے اور حضرت سیدہ موصوفہ بھی اپنی اوصاف حمیدہ اور اخلاق عالیہ کا جیتا جاگتا نمونہ تھیں۔خندہ پیشانی سے ہر ایک سے ملنا عمر بھر ان کا شیوہ رہا۔اور اپنی شیریں گفتگو کی وجہ سے دلیوں کو جیت لینا ان کا وصف تھا۔