دُختِ کرام — Page 251
۲۳۹ اپنے ہاتھ سے وہی کام کروں گی جو تم کر رہی ہو۔یہ ہے ایمان کامل کی خوبصورتی۔ربوہ قیام کے دوران باجی جان کو کوئی ذاتی مسئلہ درپیش تھا۔مجھے فرمایا بشری میں تمہاری باری میں آؤں گی تم ادھر اُدھر کے دروازے بند کر دینا میں کیسوتی سے بڑے بھائی رستید نا حضرت فضل عمر سے کوئی بات کرنا چاہتی ہوں۔چنانچہ آپ کی ہدایت کے مطابق میں نے ایسا ہی کیا جب او پر ہم دونوں صبح کے ناشتہ کی میز پر تھے یا غالباً کھانے کی نیر مالیا مر میں ان کو رسید نا حضرت فضل عمر کیا کہ کر اور باجی جان کو آپ کے پاس بٹھا کر خود اپنے آپ ہی ادھر اُدھر کام میں بہانے سے مصروف ہوگئی تا کہ جو بھی کوئی خاص بات آپ نے سید نا حضرت فضل عمر سے کرنی ہو سکون سے کرلیں انہوں نے مجھے خود ہی بلایا کہ آکر کھانا کھاؤ اور میٹھو۔۔۔با جی جان نے جو بھی اپنا مسئلہ تھا وہ من و عن آپ کو بتا یا اور کہا کہ سب اس کا پس منظر ہے۔اب آپ بھائی کی حیثیت سے نہیں امام قوت کی حیثیت سے خود انصاف کریں چنانچہ وہ سب مسئلہ اسی وقت صاف ہو کر ختم ہو گیا۔باجی جان نے مجھے بے حد پیار کیا۔گلے لگایا۔اور کہا تم نے کس قدر سمجھ بوجھ سے کام لیا اور بڑی ہمت و جرات کے ساتھ دوران گفتگو بڑے بھائی کو بھی کچھ نہ کچھ کہتی رہیں۔میں اس کی تمہیں داد دیتی ہوں کہ جو کچھ تمہیں حق بات بہتر تھی تم نے بھی یہی کہا کہ اس کی تحقیق لازمی ہے تا کہ پھر امام وقت کے پاس بیٹھ کر کوئی کسی کی ایسی بات نہ کرے میں سے