دُختِ کرام — Page 250
تو مجھ سے رہا نہ گیا۔میں نے کہا آپ مجھے بے شک جو چاہیں کہ میں نگران کے رہا جی جان کے خلاف میں ایک بات بھی نہ سنوں گی بلکہ شروع میں میں نے با جی جان سے کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ چلا کریں۔آپ انکیش کرس ، ہدایات دیں مگر میں پریکٹیکلی آپ کو یہ جھاڑو بہارو وغیرہ نہیں کرنے دونگی آپ نے فرمایا نہیں بشری بڑے بھائی کا حکم ہے۔میں بھی یہ کام کروں گی جب ان تقسیم خواتین کی بدکلامی پر میں نے ان سے یہ کہا آپ مجھے جو چاہیں کہیں گھر ان کو رہا جی جان کو کوئی بات نہیں کہ سکتیں۔تو باجی جان نے مجھے کہا کہ یہ لوگ اپنے گھروں سے برباد ہو کر رکھ درد سے چوکر ہو کر نکلے ہیں ہر ایک کو خواہ کوئی ہمدردی کیوں نہ ہو اسے شک کی نگاہوں سے دیکھتی ہیں اور اس طرح یہ مجبور ہو کر اپنے غصے یادکھ درد کا اظہار اس طور پر کر رہی ہیں تم کچھ نہ میرے متعلق کہو۔چپکے سے ہم کام کئے جاتے ہیں۔جب خدا تعالٰی ان کو سکون دیگا تو خود ہی سب سمجھ آ جائے گا۔اور دوسری سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بشری ہم لوگ تو اس قسم کی گالی گلوچ کے عادی ہیں۔ہمارے دل میں تو رحیم ہی رحم ہے۔میں نے کہا باجی جان مجھے اپنے لیے تو ایک فیصد بھی احساس نہیں ہوا بلکہ ہنستے مسکراتے ہوتے اور ان سب کو پیار کرتے ہوتے میں کام کر رہی ہوں۔مجھے آپ کی شان۔میں اس قدر بے باکانہ کلام برداشت نہیں ہو رہا تھا۔یہاں بھی آپ کی ہمدردی اور اخلاص کی آئینہ داری کس شان سے نظر آتی ہے اور پھر امام وقت کے حکم کا احترام اس حد تک کہ میں بھی