دُختِ کرام — Page 249
۲۳۷ ہیں اور یہ باجی جان کا خاص اندازہ تھا۔لاہور پارٹیشن کے بعد کی بات ہے جب ہم لوگ بھی عام ریفیوجیز کی طرح رتن باغ میں مقیم تھے۔سیدنا حضرت فضل عمر نے ان عام رینیو جیز کی دیکھ بھال کے لیے اپنے افراد خاندان میں سے سب کی ڈیوٹیز مقرر کردی تھیں ایسی طرح میرے گروپ میں اس کام کے لیے میرے ساتھ حضرت باجی جان کو بھی لگایا اور فرمایا کہ تم اور حفیظ رہا جی جان ) سامنے والی بلڈ نگر یعنی سیمنٹ بلڈنگ اور جیونت بلڈنگ کا کام تم دونوں کے سپرد ہے ان لوگوں کی دیکھ بھال خوراک اور خاص طور پر صفائی کا خیال رکھنا ہوگا اور اس کے بعد مجھے رپورٹ دینی لازمی ہو گی۔ہم دونوں ایک لڑکی کو ساتھ لے کر چل پڑے اور حضور کی ہدایت کے مطابق کام شروع کر دیا۔ہم لوگ ان کی صفاتی جھاڑو وغیرہ بھی کرتے سامان ترتیب دیتے معقول طریق سے بیٹھنے اور سونے کے لیے ان کے سامان وغیرہ کے ساتھ جگہ بناتے اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو دوائی اور علاج کے لیے رپورٹ کرتے مگر اس کام میں جس قدر گالیوں اور مغلظات سے ہمیں نوازا گیا۔آپ اندازہ نہیں لگا سکتے۔یوں لگتا کہ ہم تو چکھنے گھڑے ہیں اور باوجود ان تمام کے میں ان پر رحم آتا اور ان کی تکلیف کا احساس ہوتا۔بہت پیار - نرمی اور منتوں سے ان کو بمشکل یقین دلاتے کہ ہم آپ کے خادم ہیں اور آپ کی خدمت کے لیے آتے ہیں جب تک ہم وہاں کام کرتے ریفیوجیز خواتین ہمیں خوفناک گندی گالیوں سے نوازتی رہتیں، لیکن جب انہوں نے باجی جان کی شان میں یہ صورت اختیار کی