دُختِ کرام

by Other Authors

Page 247 of 497

دُختِ کرام — Page 247

۲۳۵ کے خیال سے صرف بات سلام تک محدود رہتی۔آپ کی وفات کے صرف دو دن قبل میں نے آپ کی خادمہ سے آپ کی طبیعت پوچھی اس پر آپ نے کیا کہ میں خود مصر آپا سے بات کروں گی۔یہ سن کر میری خوشی دو سکون کی انتہا تھی اور دل بھی چاہا کہ میں خود اس وقت چلی جاؤں اور بات کر لوں مگر وہ وقت بھی غالباً گیارہ بارہ بجے کے درمیان کا تھا اور میں آپ کے آرام کے خیال سے باوجود خواہش کے نگئی۔اور اس طرح اگلے ہی دن اچانک دن کے تین بجے آپ کی وفات کی اطلاع ملی جس کا کسی کو یقین نہیں آر رہا تھا۔کیونکہ اس سے قبل کسی قسم کی غیر معمولی طبیعت کی خرابی کا ہم سب میں سے کسی کو علم نہیں۔ایک دفعہ آپ مری میرے پاس جبکہ میں باقاعدہ ہر سال مری گرمیوں میں سیزن گزار نے جایا کرتی تھی صبح تقریباً 9 ۱۰ بجے پہنچیں اور بمشکل شام تک ہی قیام کیا میرا اصرار تھا کہ آپ کم از کم ہفتہ عشرہ توٹھہریں لیکن آپ نے ہر دفعہ مجھے ہی کہا کہ میں پھر کبھی اپنا پروگرام بنا کر آؤں گی تو ضرور ٹھروں گی مگر خیبر لاج میں اب تو اس قدر گنجائش بھی نہیں صبح سے شام تک جس قدر لمحات میرے پاس قیام کیا وہ لمحات کتنے قیمتی تھے میرے لیے سارا وقت ہنستی ہنساتی رہیں اور بار بار کہتیں۔بشری تمہارے پاس میرا بہت دل لگا ہے تم نے اس ٹوٹی پھوٹی بلڈنگ کو اپنی رہائشی جگہ کو کسی سلیقے کے ساتھ سیٹ کر رکھا ہے اور کتنی رونق لگا رکھی ہے کیونکہ میں جب مری جایا کرتی تو میرے ساتھ جانے والوں کے علاوہ