دُختِ کرام — Page 244
۲۳۲ حضور گھنٹوں سربسجود بند دروازہ میں معلوم نہیں کیا مانگا جاتا رہا ہم نے انہیں ہر قدم پر صابر و شاکر خاموش ہی پایا۔اس چھ سالہ بیاری کے دوران رجب ذرا بہتر تھیں کبھی کبھی مجھے نون خود کر دیتیں یا پھر کسی خادمہ کو بھجوا دیتیں اور کہتیں بشری امیرا فون خراب ہے ذرا اکیچینج کو کہ کر ٹھیک کروا دو۔یا کبھی کہتیں بشرطی کمیٹی والوں کو فون کرو اور کہو کہ مجھے پانی کی تکلیف ہے۔یا بارشوں کی وجہ سے میرے اور تمہارے گھر کی درمیانی سڑک نشیبی ہے۔نہایت گندا پانی آ رہا ہے جو تمہارے لیے بھی اور میرے لیے بھی مضر ہے اس کا فوری انتظام کرواؤ وغیرہ یا کبھی میرا حال پوچھ لیتیں۔ابتداء میں جب تک چلنے پھرنے کے قابل تھیں میرے ہاں بھی چکر لگائیں اور کہتیں تم کیا گھر میں بند ہو کہ بیٹھ گئی ہو، نکلا کرو۔میری اماں مرحومہ کی وفات ہوئی تو بڑے پر وقار انداز سے میری دلجوئی کرتی رہیں۔برابر تین چار دن آتی رہیں۔اور اس ٹریجڈی کے موضوع کو نہ چھیڑ ہیں۔اس موضوع سے ہٹ کر ایسی باتیں کرتیں جن سے میرا خیال بٹ جائے۔ایک دفعہ اماں مرحومہ کی وفات کے غالباً ایک ماہ بعد میں آپ کے پاس گئی۔مجھے دیکھتے ہی غیر ارادی طور پر بے ساختہ یہ الفاظ آپ کی زبان سے نکل گئے۔بشریٰ ! تمہارا یہ کیا حال ہو رہا ہے۔اماں کی جُدائی تم پر اس حد تک اثر انداز ہوتی ہے کہ تمہاری صحت بُری طرح گر گئی ہے اس طرح نہ کرو۔باہر نکلو۔طو جلو ، اس راستہ پر تو ہر ایک نے جانا ہی