دُختِ کرام — Page 242
۲۳۰ روم میں تھی آپ نے مجھے اپنے بیڈ روم میں نہ پاکر ایک سینٹ کی شیشی میرے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھدی اور میری کارکنہ لڑکی کو یہ پیغام دیگر فوری طور پر چلی گئیں کہ در آپا کو کہنا کہ آج تمہاری عدت ختم ہے۔نہاؤ کپڑے بدلو اور یہ سینٹ جو میں تمہارے لیے لائی ہوں یہ استعمال کرو اور آج کے دن سے میں تمہیں اچھے لباس میں دیکھوں۔تم اسی طرح پینو - اوڑھو۔جہاں تک خدا تعالٰی کا امتناعی حکم تھا وہ آج کے دن تک پورا ہوگیا اور س۔اور پھر اس کے بعد ایک دوسرے موقع پر مجھے کہا۔تم نے میری بات نہیں سنی اور نہ اس پر پوری طرح عمل کر رہی ہو دیکھو ! سب کچھ سینو اوڈھو۔بیٹوں کی ماتیں ہمیشہ سہاگنیں ہی ہوتی ہیں۔اب دیکھتے اسقدر کمال ہمدردی کے کلمات تھے اور جذبہ شفقت و خلوص سے بھر پور پہلے آکر نہانے دھونے کپڑے بدلنے کی تاکید کر جاتی ہیں اور پھر سینٹ دے کر اُسے استعمال کرنے کی تاکید کرتی ہیں۔اس کے بعد جب بھی مجھے آپ نے اُداس و پژمردہ دیکھا۔تو ایسے فقرے کے جس کے انکار سے مجھے مفر ہی نہیں تھا۔یہی ڈر اور خیال غالب آ گیا۔کہ آپ کے دل میں یہ بات کہیں جڑ نہ پکڑے کہ میں اپنے تمام بچوں کو اپنے بچے نہیں سمجھتی۔اس لیے آپ کی اتنی بڑی بات کی طرف توجہ نہیں دی اور میرا اغلب خیال اب ہی ہے کہ آپ نے مجھے راہ راست پر لانے کے لیے اور پھر سے مجھ میں زندگی پیدا کرنے کے لیے یہ بات کہی۔اور ایسی بات جب ہی ہو سکتی ہے جب کسی کے معصوم دل میں انتہائی خلوص و شفقت کے علاوہ اس کے لیے