دُختِ کرام — Page 241
۲۲۹ سرسری سی بات تھی ، باجی جان نے جبکہ میں اتفاقاً ایک دو دن کے لیے معمول کے مطابق اپنے ابا جان کو منے جا رہی تھی کسی کے ہاتھ ایک بند لفافہ بھیجوایا جو میں نے چلتے چلتے پرس میں رکھ لیا۔اور دوران سفر میں نے اسے پڑھا جس میں صرف یہ چند سطور تھیں۔پیاری بشری - السلام علیکم ! تم ابا اماں کو ملنے جارہی ہو ان کو میرا سلام اور دُعا کا کہنا۔اچھا جاؤ عمر به سلامت روی و باز آئی ہاں با یاد آیا کیا فلاں بات بڑے بھائی سے میرے متعلق تم نے کسی تھی ؟ مجھے اس کا قطعاً یقین نہیں میں ویسے ہی پوچھ رہی ہوں ؟ یہ مختصر سا خط پڑھ کر سخت متعجب تھی کہ مجھے تو کسی بات کی نوعیت کا ہی سرے سے علم نہیں پھر مجھے خواہ مخواہ کیوں گھسیٹا گیا۔خیر میں نے پہنچتے ہی پہلا کام ہی کیا کہ باجی جان کو نفی میں جواب دیدیا۔اگر میں ایسی کوئی بات سنتی بھی تو بھی ان سے یعنی سید نا حضرت فضل عمر سے اس کا ذکر نہ کرتی کیونکہ آپ دونوں بہن بھاتی ہیں اور یہ رشتہ بہت اہم ہوتا ہے۔اس پر باجی جان کا بہت پیارا جواب آیا کہ جزاک اللہ مجھے تو بفضلہ سوفیصدی میسی یقین تھا کہ تم ایسی ہو ہی نہیں سکتی۔جس کے مرتی تمہارے اماں ابا جیسے ہوں۔تم نے اتنی اچھی بات کی ہے کہ بہن بھائی کا رشتہ بہت اہم ہے اور ہمارا یہ کہنا با مشکل درست ہے۔سید نا حضرت فضل عمر کے وصال پر جب میری عزت کے دن پور ہوئے آپ اس سے ایک دن پہلے صبح ہی صبح میرے گھر آئیں میں ڈرینگ