دُختِ کرام — Page 239
۲۲۷ - کہتی تھی نہ ہی بولتی اور نہ ہی کبھی نہانے دھونے کپڑوں کے موضوع پر اظہار کرتی۔کیونکہ وہ خوفناک پریشانی کے دن تھے۔حضرت فضل عمر قادیان ان کی بخیریت واپسی کا سوال پھر پورے قادیان کے احباب کی خیریت کا سوال اور اسی سے متعلق دوسرے بہت سے مسائل تھے جن کی وجہ سے ایک ایک لمحر بے کیف اور پریشان کن تھا۔مگر باجی جان کی ہمدردانہ نگاہوں نے باوجود ان تمام باتوں کے پور یہ حوصلے اور ایمان ویقین پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوتے ہم لوگوں کی ان چھوٹی چھوٹی بے حقیقت کو باتوں کو خوب مد نظر رکھا اور حالات کے مطابق جو کر سکتی تھیں ہنستے مد مسکراتے کیا۔لاہور خود عامل بلڈنگ پہنچنے پر جب مغرب و عشاء کا وقت ہوا تو کسی نے باجی جان کو کہہ دیا کہ مہر آپا زمین پر بیٹھی ہوتی ہیں پتہ چلتے ہی آپ نے اسی وقت مجھے ایک چارپائی بھجوائی۔۔۔۔۔اسی دوران یعنی قیام جو دھامل بلڈنگ جبل جو اس وقت بہت چھوٹی تھیں۔بیمار ہوگئیں ان کے علاج معالجہ غذا کی طرف جہاں تک مجھ سے ممکن تھا ئیں خاصی توجہ دیتی رہی، لیکن جمیل کی یہ حالت تھی کہ جونہی ذرا طبیعت خراب ہوئی نہ غذائیتیں نہ دوائی۔ایک ٹانگ پر کھڑے کھڑے بُڑا وقت گذر رہا تھا۔آخر با جی جان کو میرا شدید احساس ہوا اور مجھے کہا تم اس کی تیمار داری دفتر سے ہٹ جاؤ میں جمیل کو خود ہینڈل کرتی ہوں۔باجی جان نے یہ پریشانی اور ذمہ داری کیوں مول لی ایک تو خیر بھتیجی ہونے کے ناطے سے ان کو