دُختِ کرام — Page 223
جو درد کی یہ آواز بند کر رہا تھا بعد میں وہ خود سب باتوں میں وہی کچھ ہو گیا رہی کچھ بن گیا معرفت کے نکات بتلانے لگا۔وہ خود وہ ہو گیا یعنی جام وصل دسر با پہلوانے لگاوہ خود وہ ہوگیا کہ بعد میں جس کے جلوۂ جاناں کو ترستی آنکھوں نے ڈھونڈا اور وہ اس کو نہ پاسکیں۔وہ آڑے وقتوں میں آڑے آنے والا ہو گیا۔پس برکتوں کے جانے سے اس کے خلا کا احساس بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔پس اگر آپ مضمون کو اس طرح سمجھیں تو آپ کے تصورات میں توازن کا کوئی بگاڑ پیدا نہیں ہو گا۔" دو احادیث حضرت عمر بن خطاب راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا: ال اخبركم بِخَيَارِ امرائكم و شرارهم خيارهم الذين تحتوهم ويحبونكم وتدعون لهم ويدعون لكم۔وشرار امرائكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنونهم ويلعنونكم۔ر ترمذی ابواب الفتن) اسے عمر بن خطاب کیا میں تمہیں تمہارے بہترین اور