دُختِ کرام — Page 202
19۔غم تو کرے لیکن برکتوں پر نوحہ نہ کرے تو یہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے زندگی کی ہر علامت میں ترقی کرتی چلی جائے گی اور ہر لحاظ سے اس کی برکتیں نشوو نما پاتی رہیں گی۔اور بڑھتی رہیں گی ہر آنے والا وجود ضرور نئی برکتیں ہے کر آئے گا۔اور ہر جانے والا وجود نئی برکتیں پیچھے چھوڑ کر جایا کرے گا۔اور جماعت کو برکتوں کے لحاظ سے کبھی نوحہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔پس حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی جدائی اگر چہ بہت ہی شاق ہے اور جذباتی لحاظ سے ایک بڑی آزمائش ہے لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ ایک صاحب برکت وجود تھا جو چلا گیا اب ہم یہ برکتیں کہاں سے ڈھونڈیں گے ، تو یہ کہنے والا جھوٹا ہے خدا تعالیٰ وہ برکتیں جماعت کو ورثہ کے طور پر عطا فرماتا چلا جاتا ہے ہاں اگر در نہ پانے والے اس ورثے کو ضائع کر دیں ان برکتوں سے منہ موڑ لیں ان نیکیوں کو الوداع کہہ دیں تو پھر لازماً مرنے والا اپنی نیکیوں کے ساتھ پیچھے رہنے والوں کو الوداع کہ دیا کرتا ہے اور خود ہی جدا نہیں ہوتا بلکہ اس کی برکتیں بھی جدا ہو جایا کرتی ہیں۔خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کا ہمیشہ صاحب برکت وجودوں سے وفا کا ایسا گہرا تعلق پیدا فرماتے کہ افراد جماعت ان سے ہی نہیں ان کی برکتوں سے بھی چھٹ جائیں۔۔۔۔۔۔۔میں احباب جماعت کو خصوصیت کے ساتھ تلقین کرتا ہوں کہ وہ صبر کے اس مضمون کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیں اس کو اپنے پلے باندھ لیں کہ اچھی باتوں کو پکڑ لینا ان پر قائم رہنا۔