دُختِ کرام

by Other Authors

Page 201 of 497

دُختِ کرام — Page 201

۱۸۹ دور میں حضرت مسیح موعود کی چھوڑی ہوئی برکتیں ختم تو نہیں ہوگئی تھیں۔دہ جاری رہیں بلکہ نشو نما پاتی رہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی اپنی شخصیت کی جو خصوصی برکتیں تھیں وہ ان میں شامل ہوتی چلی گئیں حضرت خلیفہ المسیح الاول کے وصال کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے دور میں بھی یہی ہوا۔چنانچہ ایک موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جماعت احمدیہ پر ایک عرب شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ ہے اذا سيد منَا خَلَا قَام سيد سَيِّدٌ قولُ بِمَا قَالَ الكِرَامَ فَعُولُ کہ جب ہم میں سے کوئی بزرگ سردار گذرتا ہے تو اپنی بزرگیاں ساتھ نہیں لے جایا کرتا اور قوم کو اپنی سیادتوں سے محروم نہیں کر دیا جایا کرتا قائد سید ایک اور سید ایک اور سردار اس کی جگہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔قوول لما قال الكرام صاحب کرام (جیسا کہ الہام میں ذکر ہے ) اور صاحب کرامت لوگوں کی باتوں کو وہ اسی طرح کہتا ہے جس طرح پہلے کرام لوگ کہا کرتے تھے اور فَعُول اور ان باتوں پر اسی طرح عمل کر کے دکھاتا ہے جس طرح اس سے پہلے کرام لوگ ان باتوں پر نیک عمل کر کے دکھایا کرتے تھے تو یہ ہے برکت کی حقیقت۔اور جماعت کو مضمون خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ اگر وہ برکتوں سے چھٹنے کی عادت ڈالے اور ایک صاحب برکت وجود کے بعد اس وجود کی جدائی کا