دُختِ کرام — Page 186
۱۷۴ کے لیے میں کوئی الفاظ نہیں پاتا۔ہمارے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نشانی تھیں جن کے ذریعہ ہرقسم کی برکات جماعت پر اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے خاندان پر نازل ہو رہی تھیں۔ہر احمدی کے دل سے یہ دُعا اُٹھ رہی ہے کہ اللہ تعالٰی حضرت حکیم صاحبہ کے درجات بلند فرمائے اور اعلیٰ علیین میں جگہ دے۔اور تمام احباب جماعت اور حضرت بیگم صاحبہ کی اولاد کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔آپ کے اس عظیم صدمہ میں خاکسار اور میرا خاندان آپ کے برابر کا شریک ہے اور آپ سب کے لیے دعا گو ہے۔حضرت بیگم صاحبہ سے خاکسار کا ایک خاص پیار کا تعلق تھا جب بھی ملاقات کے لیے حاضر ہوا کبھی مشروب کے بغیر جانے نہیں دیتی تھیں اور کوئی نہ کوئی تحفہ دیتی تھیں اور خط و کتابت بھی تھی۔خاکسار اب بھی آپ کی دُعاؤں کا محتاج ہے۔خاکسا در رانا ناصر احمد باب الابواب - ربوه سپاس تعزیت حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی وفات پر مکرم میاں عباس احمد خان صاحب کے نام آنے والے تعزیتی خطوط کے جواب میں مکرم میاں صاحب نے مندرجہ ذیل خط لکھا :-