دُختِ کرام

by Other Authors

Page 168 of 497

دُختِ کرام — Page 168

104 کے پیچھے تھی اور اس کے بعد کم و بیش پچاس گاڑیاں جنازہ کے ساتھ بہت اقصیٰ کی جانب رواں دواں تھیں جن میں افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ اہالیان ربوہ اور باہر سے آئے ہوئے متعدد احمدی احباب اور عہدیداران جماعت کی گاڑیاں شامل تھیں۔بیت الکرام سے جنازہ روانہ ہوا اور دار الصدر کی درمیانی سڑک سے ہوتا ہوا۔فیکٹری ایریا کے ریلوے کراسنگ والی سڑک کو عبور کر کے چین عباس کے سامنے والی سڑک سے گذرتا ہوا بیت اقصیٰ پہنچا اور ٹھیک ۵ بجے نماز جنازہ ادا کی گئی۔بیت اقصیٰ کے اندرونی حصہ اور صحن کے علاوہ سالانہ جلسہ گاہ کا ایک حصہ بھی نماز جنازہ ادا کرنے والوں سے پُر تھا۔بهشتی مقبرہ روانگی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد تابوت کو چار پائی پر منتقل کر دیا گیا جس کے ساتھ دونوں طرف لیے بانس موجود تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ احباب کو کندھا دینے کا موقع مل سکے اور ساتھ مضبوط خدام کا ایک حلقہ اس کے ارد گرد موجود تھا۔تا کہ ہزار ہا نفوس پر شتمل اثر دہام کو کنٹروں کیا جاسکے۔اس حلقہ کے اندر خاندان حضرت مسیح موعود کے افراد - ناظر و و کلام صاحبان حضرت سیدہ مرحومہ کے بعض غیر از جماعت سسرالی رشته دارد و غیره موجود تھے۔راستہ بھر میت کو کندھا دینے والے احباب بدلتے رہتے تھے۔جنارہ بیت اتعلی سے اقضی روڈ پر ریلوے پھاٹک سے گذرتا ہوا ایوان