دُختِ کرام — Page 156
۱۴۴ بھی گلے اور جسم میں شدید درد محسوس ہو رہا تھا۔شام تک بخار بھی ہو گیا اتی بہت پریشان تھیں۔پل پل پر ڈاکٹر کو دکھانے کی عادت یہاں یہ سہولت کہاں تھی۔گھر میں جو دوائیں تھیں وہ کھائیں اور شام کو زیورک کی جھیل دیکھنے چلے گئے۔ٹیکسی ڈرائیور ایک خوش مزاج آدمی تھا سارا راستہ وہ مختلف مقامات کے متعلق بتاتا رہا۔زیورک کی جھیل پر پہنچنے کے بعد بھائی موجی نے شاید اس کی خوش مزاجی کی یادگار کے طور پر اس کی مووی بنائی جس سے وہ بہت خوش ہوا۔اور دو گھنٹ بعد دوبارہ ہمیں واپس لے جانے کے لیے آنے کا وعدہ کر کے چلا گیا۔زیورک کی جھیل سرسبز پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے انتہا خوبصورت لگی۔لوگ اپنی ذاتی چھوٹی چھوٹی کشتیاں چلا رہے تھے۔زندگی میں پہلی بار ہم نے بجلی کی تار پر چلنے والے کیبن دیکھے جو جھیل کے بارے جاکر را اسی آتے تھے امی کو بجلی کے تاروں پر چلنے والے ان کیبنوں سے بہت خوف آتا تھا اس لیے انہوں نے مجھے اور بھائی موجی کو آیا قدسیہ کے ساتھ بھیج دیا بلندی سے زیورک کا نظارہ بہت بھلا لگتا تھا۔جھیل کے دوسری طرف ایک خوبصورت پارک تھا۔جو پھولوں اور فواروں سے بھرا ہوا تھا۔بھائی موجی نے سارے نظارے کی مووی بنائی اور امتی کو چونکہ اکیلا چھوڑ آئے تھے اس لیے بہت جلد واپس آگئے کچھ ہی دیر بعد ہمارا ٹیکسی ڈرائیور آگیا اور ہم واپس لوٹ آئے۔