دُختِ کرام

by Other Authors

Page 155 of 497

دُختِ کرام — Page 155

۱۴۳ صفائی کا بہت خیال رکھتے تھے اپنے چھوٹے سے فلیٹ کو انڈے کی طرح حان رکھا ہوا تھا۔سب سے بڑا کرہ امی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔جس میں ایک ڈبل بیڈ تھا۔ساتھ ہی ایک دیوان پر میں سو جاتی تھی۔ایک اور چھوٹا سا بیڈ روم تھا جس میں باجوہ صاحب آپا کلثوم دیگیم باجوہ صاحب ان کا بیٹا بیٹی اور موجن لطیف صاحب مبلغ جرمنی کی بیٹی رہتے تھے اس کے علاوہ صرف ایک چھوٹی سی بیٹھک تھی جس میں بعد میں لطیف صاحب رہتے تھے۔باجوہ صاحب تو گویا امی کے انتظار ہی میں تھے۔کھانے کے فوراً بعد باجوہ صاحب نے بتایا کہ ایک اخبار نویس امی کا انٹرویو لینے آرہے ہیں اور وہ ٹیپ کیا جائے گا۔انہوں نے کچھ سوالات دیتے جو پوچھے جانے تھے۔اتی لکھواتی جاتی تھیں اور بھائی موجی ان جوابات کو اردو اور انگریزی میں لکھتے جاتے تھے۔اخبار نویس ایک نوجوان لڑکی تھی۔وہ جرمن زبان میں سوال کرتی تھی۔اور موجن رلطیف صاحب کی بیٹی ، اس کا اردو میں ترجمہ کر کے امی کو بتائی جاتی تھی۔امی اردوی میں جواب دیتی تھیں اور موجن پھر دوبارہ جرمن میں ترجمہ کرتی جاتی تھی انٹرویو کوئی ایک گھنٹے جاری رہا وہ اخبار نویسہ ہم سے بے تکلفی سے بولتی رہی۔ہم نے تنگ پاجامے پہنے ہوتے تھے وہ اس کو بہت پسند آئے۔بہت خوشگوار ماحول میں انٹرویو ختم ہوا اور دوسرے دن اخبارا میں بہت کے سنگ بنیاد کی تقریب کے ساتھ شائع ہوا۔سفر کی کوفت پھر آتے ہی انٹرویو نے امی کو تھکا دیا۔اس لیے کچھ دیر آرام کیا۔مجھے --