دُختِ کرام

by Other Authors

Page 8 of 497

دُختِ کرام — Page 8

مولی خاطر اور منفیض ہو جاتا ہے اور بسا اوقات اپنے دل میں ایسے سوانح نویس پر اعتراض بھی کرتا ہے۔اور در حقیقت وہ اس اعتراض کا حق بھی رکھتا ہے کیونکہ اس وقت نہایت اشتیاق کی وجہ سے اس کی مثال ایسی ہوتی ہے کہ جیسے ایک ٹھو کے کے آگے خوان نعمت برکھا جائے اور دو ایک نقمر کھانے کے ساتھ ہی اس خوان کو اُٹھا لیا جائے۔اس لیے ان بزرگوں کا یہ فرض ہے جو سوانح نویسی کے لیے قلم اٹھاویں کہ اپنی کتاب کو مفید عام اور ہر دلعزیز اور مقبول انام بنانے کے لیے نامور انسانوں کی سوانح کو میر اور فراغ حوصلگی کے ساتھ اس قدر بسط سے لکھیں اور ان کی لائف کو ایسے طور سے مکمل کر کے دکھلا دیں کہ اس کا بڑھنا ان کی ملاقات کا قائمقام ہو جائے تا اگر ایسی خوش بیانی سے کسی کا وقت خوش ہو تو اس سوانح نویس کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لیے دعا بھی کرے۔اور صفحات تاریخ پر نظر ڈالنے والے خوب جانتے ہیں۔کہ جن بزرگوں محققوں نے نیک نیتی اور افادة عام کے لیے قوم کی ممتاز شخصیتوں کے تذکرے لکھے ہیں انہوں نے ایسا ہی کیا ہے ؟ 109 د کتاب البرية ص۱۹۹)