دُختِ کرام — Page 117
۱۰۵ چنانچہ حضرت سیدہ موصوفہ عمر بھر انفاق فی سبیل اللہ کے اعتبار سے بھی باوجود اس کے کہ نظام وصیت کا چندہ ان پر واجب نہ تھا وہ حصہ آمد وجا تیداد ادا کرتی رہیں بلکہ دیگر مدات میں بھی بھر پور حصہ لیتی رہیں۔تاریخوں کی ترتیب سے صرف نظر کرتے ہوتے چندوں کی ادائیگی اور مختلف مالی قربانیوں میں آپ کی شمولیت کا سرسری جائزہ درج ذیل ہے۔چندہ برائے زنانہ وارڈ نور ہسپتال قادیان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔) الفضل ۳/۱۱/۱۹۲۱) چندہ برائے انسداد ارتداد علاقه ملکانه درپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ چندہ برائے بیت الذکر لندن۔۔سو روپے (الحکم ۲۱/۲/۱۹۲۳) چنده توسیع بہشتی مقبره قادیان (الفضل ۱۰/۶/۲۷) ریز روند تحریک میں شمولیت (رپورٹ مجلس مشاورت (194) چندہ برائے تعمیر بیت الذکر دارالفضل قادیان (الفضل ۲۷/۱/۱۹۳۱) چندہ برائے توسیع اشاعت رساله ریویو آف ریلیجنز د۔۔۔۔رپورٹ سالانہ صدر انجمین احمدیہ ۱۹۳۲۰۳۵ ) - ۱۹۴۲ تعمیر عمارت دفاتر مجلس خدام الاحمدیہ قادریان (الحلم ۴۰۰ اسی ) برائے تعلیم الاسلام کا لج قادیان (الفضل ۴۴ ۵۷ / ۱۲) وقت جائیداد کی تحریک میں ۱۲ گھماؤں اراضی وقت کی ۱۹۴۳ تاریخ لجنه جلد اول ماه ) امانت دار الشیوخ قادیان دغرباء ومساکین کا ادارہ (الفضل ۲۷/۲/۱۹۴۷)