دُختِ کرام — Page 113
H دو چار نوالے منہ میں ڈالتیں اور پھر ابا جان کی پٹی کے ساتھ لگ جاتیں چار پانچ مہینے تو امی جان نے نیند بھی پوری نہیں لی کبھی۔10 منٹ کے لیے آنکھ جھپک جاتی اور پھر اگر ابا جان کی پشت کو دبانے لگ جاتیں۔رات کے گیارہ بارہ تو روزانہ ہی جاگتے میں بج جاتے تھے پھر جب امی جان کو تسلی ہو جاتی کہ ابا جان سوچکے ہیں تو ایک چھوٹا سا سٹول ابا جان کی چارپائی کے ساتھ مولیتیں جو کہ اتنا پتلا اور لمبائی میں اتنا چھوٹا ہوتا تھا کہ اس پر امتی تو کیا ایک دس سال کا بچہ بھی نہیں سو سکتا تھا اور امی اس پر ٹیڑھی ہو کر اس حالت میں لیٹ جاتی تھیں کہ سر اور شانے ابا جان کے پلنگ کی پٹی پر اور ہا تھ اتبا جان پر ہوتا۔مبادا ابا جان نیکان کی وجہ سے جاگیں تو امتی کی آنکھ نہ کھلے۔۔۔) اصحاب احمد جلد ۱۲ ) انفاق فی سبیل اللہ حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی جماعتی سرگرمیوں سے متعلق زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکیں اور وہ ویسے بھی نام و نمود کی خواہاں کبھی بھی نہ رہیں اور نیکی کے کاموں میں بالعموم اخفا ان کی عادت تھی۔اسی طرح مالی قربانیوں۔صدقہ و خیرات کا بھی یہی معاملہ تھا ، لیکن مالی