دُختِ کرام — Page 111
۹۹۰ کو بھی دکھ ہو رہا ہے۔پام دیو کی نچلی منزل کے وسیع کرے کی تمام تیز روشنیاں بجھا دی گئی تھیں اور پہلوؤں کے دیوار سے لگی ہوئیں نائٹ لائٹیں جل رہی تھیں جن سے کمرے میں مدہم روشنی پھیلی ہوئی تھی اور ایک نہایت ہی عزیز ترین مریض لوہے کے اونچے بیماروں والے پلنگ پر لیٹا ہوا نہایت تکلیف سے کھینچ کھینچ کر سانس لے رہا تھا میری امی جان ان کے سرہانے کی طرف چہرے کے بالکل قریب پلنگ کے ساتھ گرمی جوڑ کر نہایت ہی صبر اور استقلال کے ساتھ سیدھی بیٹھی ہوئی بار بار پینے پونچھ رہی تھیں کوئی آکسیجن دے رہا تھا کوئی جسم کا پسینہ کپڑوں نے آہستہ آہستہ خشک کر رہا تھا۔سب بچے اردگرد جمع تھے اور ہم بہن بھائیوں کو یہ خیال نہیں تھا کہ آپ کا آخری وقت اتنا قریب ہے صرف امی جان اس بات کی سمجھ رہی تھیں۔صبح کی اذان ہوتی سب نے نمازیں پڑھیں یوں معلوم ہوتا تھا کہ وقت کو پر لگے ہوتے ہیں۔کہتے ہیں کہ تکلیف کا وقت جلدی نہیں گذرتا لیکن یہاں کچھ اور ہی معاملہ تھا۔وہی غنودگی کی کیفیت بدستور جاری رہی مگر باہوش۔آنکھیں بند تھیں کھینچ کھینچ کر سانس آ رہی تھی۔۔۔۔بھائی داور احمد صاحب نے سورۃ لیس اور