دُختِ کرام — Page 108
94 کو ضائع نہیں کیا۔۔۔۔۔۔تقسیم ملک کے بعد حالات سب کے خراب تھے۔بہتر بھی ناکافی تھے ایک رضائی میں دو دو تین تین مل کر سوتے تھے۔میری ایک بہن نے امی جان سے لحاف منگوایا کہ اگر کوئی فالتو ہو تو بھیج دیں ہمارے لحاف روتی بھر کر آ جائیں گے تو بھجوا دیں گے (حالانکہ ابھی بھرنے نہیں گئے تھے) امی جان کے پاس بھی بستر نا کافی تھے انہوں نے دو کیل بھجوا دیتے۔دو مہینے کے بعد اچانک رات کو کسی مہمان کی آمد سے ضرورت ہونے پر امی جان نے اس خیال سے کہ لحاف تیار ہو چکے ہونگے کیبل منگوا لیے صبح کو ابا جان نے امی جان کو کہا میں تورات سو نہیں سکا۔لڑکی کو کہیں ضرورت نہ ہو جب شام کو میری بہن آتی تو ابا جان نے فرمایا مجھے رات سخت تکلیف رہی تمہیں کمبلوں کی ضرورت ہو گی اور تم نے ہمار منگوانے پر بھجوا دیتے۔اس نے غیرت کی وجہ سے بتایا نہیں اور یہی کہا کہ نہیں ہمیں تو اب ضرورت نہیں تھی مگر ابا جان نے مانے انہوں نے فرمایا کہ نہیں ضرورت تب بھی تم ساتھ لے جاؤ۔آخر مجھے اتنی تکلیف کیوں ہوئی اور واقعہ یہ ہے کہ اس رات وہ لوگ جو بھی کوئی چادر پلنگ پوش اور کھیں تھے وہ لپیٹ کر لیٹے اور ساری رات سردی کی وجہ سے سو نہیں سکے۔کئی سال کے بعد جب حالات ٹھیک ہو گئے۔تو اس نے