دُختِ کرام — Page 98
کا ذکر کر کے آپ پر رقت طاری ہو جاتی تھی۔بیگم صاحبہ کے شب و روز کی خدمت اور علاج معالجہ میں جدو جہد میں کسی قسم کی کمی باوجود ڈاکٹروں کی مایوسی کے نہیں کی۔بارہ تیرہ سال متواتر چوکسی کے ساتھ خدمت کرنا معمولی امر نہیں۔میں نے اس پاک جوڑے میں ایک دوسرے سے تعاون۔محبت ہمدردی - احترام و تکریم اور ایثار دیکھا اور با وجود اتنے قریب کے اور اس بارہ میں غور کرنے کے میں فیصلہ نہیں کر سکا دونوں میں سے کس کا پلڑا بھاری تھا۔۱۳۱ ( اصحاب احمد جلد دوازدهم م ) مکرم رشید علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ نے لکھا :- عزیز میجر بشیر احمد خان صاحب نے بتایا کہ ایک دن مجھے کہہ رہے تھے کہ میں نے اپنا وجود درمیان سے بالکل ہی مٹا دیا ہے اور بیگم صاحبہ جو کہ حضرت مسیح موعود کی صاحبزادی ہیں ان کی وجہ سے جو کچھ میرا تھا وہ اب مٹ چکا سب کچھ حضرت مسیح موجود کی برکت کا ظہور ہے سبحان اللہ یہ حقیقت ہے کہ محرقہ بھا وجہ صاحبہ نے ۱۲-۱۳ سال حبس شب و روز کی جانفشانی اور وفاداری سے حضرت بھائی جان کی خدمت کی ہے اور ان کی طویل بیماری میں پروانہ دار ان پر شار ہوتی ہیں اس کی مثال فی زمانہ ملنی دشوار ہے۔جزاها الله