دُختِ کرام — Page 79
44 میں مجھے بہترین ماں اور بہترین سائش دی۔میں نے آج تک اس رقبہ کو حضرت اماں جان کا عطیہ تصویر کیا۔بلکہ اس جینز کا جز خیال کیا جو انہوں نے اپنی لڑکی کو دیا میں نے اسی جذبہ شکر اور محبت کی وجہ سے اس رقبہ کا نام نصرت آباد آپ کی اجازت سے آپ کے نام مبارک پر رکھا ہے۔اس لیے یہ حضرت پرر امان جان کا عطیہ ہے ان کی دُعاؤں کا ثمرہ ہے آپ لوگ خود ہی سمجھ لیں کہ حضرت مسیح موعود۔۔۔کے گھر سے آئی ہوئی چیز کسقدر با برکت ہو سکتی ہے۔۔۔۔" قرار واقعی احترام کی تلقین یہ برکتوں سے معمور شادی کن مراحل سے گزرتی ہوئی پا یہ تکمیل کوپہنچی۔ا مکرم ملک صلاح الدین صاحب مولف اصحاب احمد تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت نواب عبداللہ خان صاحب نے انہیں ۲۱۷۴/۵۲ کے ایک مکتوب میں تحریر فرما یا در سال امان جان انہی کی اماں نہیں میں بلکہ مری بھی اماں میں میرے ساتھ جو محبت اور پیار کا سلوک انہوں نے کیا ہے اپنے ساتھ ایک داستان رکھتا ہے جب میری شادی ہوتی تو مجھے ایک عورت کے ہاتھ کہلا کر بھیجا کہ میاں کی عمر زیادہ تھی یعنی میرے والد کی۔تم چھوٹی عمر والے داماد ہو۔تم مجھ سے شرمایا نہ کرو۔تا کہ جو کمی رہ گئی ہے اس کو پورا کر سکوں۔پھر آپ نے حقیقی ماں بن کر دکھایا۔) اصحاب احمد جلد دوم ص ،