دُختِ کرام — Page 47
۳۵ رخصتی ۲۲ فروری شستہ کو ہوئی اس سے قبل حضرت مسیح ، و عود کی بڑی صاحبزادی حضرت سیده نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا عقد حضرت نواب محمد علی خان صاحب سے ہو چکا تھا۔موصوف کیا ہی خوش قسمت انسان تھے کہ با وجود تمول اور امارت کے عین جوانی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شناخت کی توفیق پاتی۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو حجتہ اللہ کے خطاب سے نوازا۔حضرت مسیح موعود نے حضرت نواب صاحب کی تقوی شعاری اور امانت و خدمت دین کی بڑی تعریف فرماتی ہے ان کی نیکی اور تقری کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش خبری کے مطابق حضور کی بڑی صاحبزادی آپ کی زوجیت میں آئیں اور دوسری صاحبزادی حضرت سیدہ امته الحفیظ بیگم صاحبہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے رختِ کرام " کے لقب سے نوازا حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے منجھلے صاحبزادے کے حبالہ عقد میں آئیں۔اس طرح دونوں باپ بیٹا حضور کی میشر اور فخر دیار اولاد سے وابستہ ہو کر خود بھی فخر دیار ثابت ہوتے ہر دو کو اللہ تعالیٰ نے اولاد واحفاد سے نوازا جن میں سے اکثر کے تعلقات ازدواج حضور ہی کے خاندان میں قائم ہوئے۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور حضرت نواب محمد عبدالله خان صاحب نے اس خاندان سے اس قدر پختہ تعلق پیدا کیا کہ وہ حضور ہی کے خاندان کے افراد بن گئے اور اس تعلق کے اظہار میں فخر محسوس کرتے کہ وہ خاندان حضرت مسیح موعود میں سے ہیں۔حضرت سید و امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے رشتہ کے سلسلہ میں ابتدائی مراحل