دُختِ کرام — Page 481
۴۶۹ عقیدت کے آنسو ( از محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ میر صاحبہ ربوہ ) زلزلے نے ایک دن پہلے ہی دے دی تھی خبر کل کسی سُورج کا پھر ہو جائے گا پورا سفر چلتے چلتے عمر کا راہوار آخر تھک گیا چودھویں کا چاند گہرے بادلوں سے ڈھک گیا آج پھر برسات بھی روتی رہی ہے رات بھر ہم سبھی جاگے میں تو سوتی رہی ہے رات بھر تو ازل سے ہی رہی گویا ہمارے درمیاں اور اب کوئی نہیں تجھ سا ہمارے درمیاں دیکھ کر تجھ کو ہمیں وہ گود یاد آتی رہی اپنے بچپن میں جہاں آرام تو پاتی رہی ہم سے کیا تعریف ہو اعلیٰ تیرے اوصاف کی تجھ سے آتی تھی ہمیں خوشبو تیرے اسلاف کی