دُختِ کرام — Page 40
۲۸ بڑے بڑے دنیا دار نہیں اور اعلیٰ عہدوں پر پہنچ کر مامور ہوں۔" حضرت داؤد علیہ السلام کا قول ہے۔میں بچہ تھا۔جوان ہوا بوڑھا ہو گیا۔میں نے متقی کو کبھی ایسی حالت میں نہیں دیکھا کہ اسے رزق کی مار ہو۔اور نہ اس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے دیکھا۔اللہ تعالیٰ تو کئی پشت تک رعایت کرتا ہے پس خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لیے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقوی کا ہو جاؤ اور اس کو منتقی اور دیدار تانے کے لیے سعی اور دعا کرو" " میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لیے دعا نہیں کرتا " ( ملفوظات جلد ۲ ص ۳ ) い اس قسم کے اور بہت سے حوالہ جات ہیں جن میں اولاد کے متعلق حضرت مسیح موعود نے جماعت کو توجہ دلاتی ہے۔مندرجہ بالا چند حوالے اس غرض سے دیتے گتے ہیں کہ تا قارئین کرام ان سے یہ موازنہ کرسکیں کہ حضرت مسیح موعود کو اولاد کی تعلیم و تربیت کا کس قدر فکر تھا۔نہ صرف یہ بلکہ آپ نے ان کے لیے ایک اعلیٰ درجہ کا نمونہ بھی پیش کیا اور عید طفولیت میں بچوں کے لیے نمونہ سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں ہے کسی شخص نے ایک بڑے آدمی سے پوچھا کہ بچوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس