دُختِ کرام — Page 436
۴۲۴ میرا خواب از محرمه رو بینه نعیم صاحبہ بنت محرم مرزا عبد اسمع فارادایی میں جب بھی ریوہ آتی حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سے ضرور ملتی۔میرے والدین کے ساتھ بڑی محبت کرتی تھیں۔اس لیے ہم انہیں بڑی امی جان کہا کرتے تھے۔میں بچپن سے خالہ لیلیٰ کے ساتھ ان کے پاس بہت جاتی تھی۔اس وجہ سے بڑی اتنی مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں۔ہ میں میں بڑی امی سے ملنے گئی۔میری بیٹی عزیزی سعدیہ میرے ساتھ تھی۔اس کی عمر اس وقت تین سال تھی بڑی امی نے اس کو پیار کیا۔اور مجھے پیار کرتے ہوئے فرمایا۔خدا اب تمہیں بیٹا دے گا۔حضرت امی جان سے مل کر اگلے دن میں کراچی روانہ ہو گئی۔ٹرین میں رات کو میں نے خواب دیکھا کہ ایک بہت خوبصورت اور سر سبز لان ہے درمیان میں ایک چارپاتی ہے جس پر صاف ستھرا بستر بچھا ہوا ہے اور سرہانے کی طرف میز پر پنکھا چل رہا ہے غائبا گرمی کے دن میں اس پر چارپائی پر حضرت بڑی امی جان تشریف فرما ہیں اور ایک لڑکی ان کے سر میں کنگھی کر رہی ہے کنگھی کرنے کے بعد وہ کنگھی سے بال نکالتی ہے اور ایک طرف پھینک دیتی ہے جو نبی وہ پھینکتی ہے میں فوراً وہ بال اُٹھا لیتی ہوں مجھے دیکھ کر حضرت میگم صاحبہ مسکراتی ہیں اور اس لڑکی کو مخاطب