دُختِ کرام

by Other Authors

Page 406 of 497

دُختِ کرام — Page 406

۳۹۴ رمضان المبارک تھا میں روزے سے تھی۔دو پر سخت گرم تھی۔میں محترمہ بی بی اللہ العزیز صاحبہ کو مل کر واپس لوٹی تو نصرت گرلز سکول کے سامنے جب آتی روہاں سے آپ کی کوٹھی کو سٹرک جاتی ہے تو مجھے حضرت بیگم صاحبہ سے ملنے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔سوچا قریب آتی ہوں آپ سے بھی مل آتی ہوں اور دُعا کے لیے عرض کر دوں گی چنانچہ میں چند قدم آپ کے گھر کی طرف چلی تو خیال آیا کہ دوپہر ہے آپ آرام فرما رہی ہونگی مجھے روزہ بھی لگ رہا تھا اس خیال سے میں پھر اپنے گھر کی طرف مڑی لیکن معادل نے القادم دیا کہ نہیں حضرت بیگم صاحبہ کو مل کر جانا ہے چنانچہ اسی کشمکش میں سکول کے سامنے میں نے تین چکر لگاتے کبھی میں آپ کے گھر کی طرف جاتی کبھی واپس مڑتی آخر دل نے یہ فیصلہ دیا کہ چلو توسی اگر آپ سو رہی ہونگی تو واپس آجانا اور مجھے اپنی اس حالت پر خود بھی بہت شرم آئی کہ سامنے دکان پر بیٹھنے والے لوگ کیا کہتے ہونگے کہ اس عورت کو کیا ہوا ہے کبھی آتی ہے۔کبھی جاتی ہے آخر کار میں آپ کے گھر چلی گئی۔گھر میں مکمل خاموشی تھی۔میں آپ کے آرام کے خیال سے دبے پاؤں کمرہ میں داخل ہوئی آپ نیم وا آنکھیں کہتے پلنگ پر لیٹی ہوتی تھیں۔خادمہ قریب اخبار بینی کر رہی تھی۔مجھے دیکھتے ہی خوشی سے آپ کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔اور چہرہ مسرت سے کھل گیا۔جیسے آپ میرا انتظار فرما رہی تھیں میں نے سلام کیا آپ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا۔قیوم را دھراؤ میں قریب گئی تو آپ نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے