دُختِ کرام — Page 399
۳۸۷ آپ نے حضور کے ہاتھ سے احمدیت کے لگاتے ہوئے پودے کو تناور درخت بنتے اور پھولتے پھلتے دیکھا۔اس کے شیریں پھل کھاتے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے چین کی بہاروں سے بھی آپ بطف اندوز ہوئیں اور ایک دور کی نسل کو پایا۔اور بہترین کامیاب زندگی گزاری۔اسی طرح خلافت احمدیہ کے فتح و نصرت اور تائید ربانی کے چارہ شاندار زمانے اور خدائی قدرتوں کی ایمان افروز جلوہ نمائی دیکھی۔حضرت بیگم صاحبہ کے مبارک وجود میں اپنے مقدس والدین کا رنگ نمایاں تھا۔آپ صاحب رویا و کشوف والہام تھیں۔آپ جماعت کے لیے خصوصاً اور تمام دنیا کے لیے عموماً خیر و برکت حفظ وامان اور رحمتوں کا باعث تھیں۔چاند کی مانند چمکتا روشن اور حسین چہرہ نور ایمان کی شعاعوں سے منور تھا۔جانے والے تو چلے جاتے ہیں لیکن مبارک ہوتے ہیں وہ وجود جن کی یاد دلوں میں تازہ رہتی ہے اور جن کے نام پر جذبات کا ایک سمندر امڈ آتا ہے۔سوچتی ہوں کہ آپ کی علو شان اور ان بے مثال صفات کو کن الفاظ میں بیان کروں اور کون سے رنگوں سے ان نقش و نگار کو نکھاروں کہ آپ کے مبارک وجود کے اعلیٰ اخلاق اور اس کے نمایاں پہلو اجاگر ہوسکیں۔آپ دُعاؤں کا ایک خزانہ تھیں اور مخلوق خدا کے لیے ایک دردمند دل رکھتی تھیں۔دل میں شفقت اور محبت کا ایک سمندر موجزن تھا۔اپنوں اور بیگانوں کے دُکھ درد کو محسوس کرتیں۔ایک مشفق ماں کی طرح خدا تعالیٰ کے حضور تڑپ تڑپ کر گریہ وزاری کرتیں دن رات بے شمار اپنے پرائے خطوط کے