دُختِ کرام — Page 372
٣٩٠ وخت کرام کی شفقتوں کی مورد زینت زینب چھ سال کی بچی تھی جب حضرت دخت کرام کے گھر آئیں تاون اٹھا دن سال تک ان کا اس مقتدر گھرانہ سے تعلق رہا۔نہیں جوان ہوئیں۔یہیں سے وہ سسرال کے ہاں رخصت ہوئیں حضرت بیگم صاحبہ نے انہیں بیٹیوں کی طرح رخصت کیا۔پھر جوانی ہی میں زینب بیوہ ہوگئیں ان کے شوہر محمد اشرف صاحب تقسیم ملک کے وقت موضع سٹھیالی انزو قادیان کا دفاع کرتے ہوئے دشمن کی گولی کا شکار ہوئے ایک گونگے بچے اور دو بچیوں کی ذمہ داری اب اس کے کندھوں پر آن پڑی۔حضرت بیگم صاحبہ پیار سے زینب کو لیلی کہا کرتیں۔وقت کرام کی شان کریانہ کا ذکر ان کی زبان سے سنیئے پون گھنٹڈ کے قریب وہ حضرت بیگم صاحبہ کی شفقتوں اور لاڈ کا ذکر کرتی رہیں۔اور اکثر وقت وہ رونے لگ جاتیں اور ان کی آواز بھرا جاتی۔غلام باری سیف ) زینب عرف سیلی نے بتایا کہ حضرت بیگم صاحبہ نے کہتی ہے سارا بچیوں کو پالا اپنے خرچ پر ان کی شادیاں کیں اور ان سے پھر اس طرح