دُختِ کرام — Page 324
۳۱۲ سے پورا ڈالتی تھیں کبھی نا جائز ہوجو نہیں ڈالا لیکن ساتھ ساتھ ابا کو بڑے طریقے سے ذاتی کام کے لیے بھی اُبھار میں خود بھی بہت دعائیں کرتیں اور اماں جان سے بھی کرداتیں۔خدا تعالیٰ سے ملنے والی بشارتوں سے حوصلہ بڑھا تیں غرض اس صبرا دعا ، توکل کا اجر خدا تعالیٰ نے بہت سی بشارت کے بعد ایسا دیا کہ ابا اپنی ذاتی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آیا۔کہ میری آمد کے ذرائع والد صاحب کی آمد سے بھی بڑھ گئے۔بغیر کسی سرمایہ اور بغیر کسی امداد کے لاکھوں کی جائیداد بن گئی اور بہت سے ترقی کے سامان بھی بنتے چلے۔۔۔۔۔امتی عزم و ہمت کا پیکر تھیں بڑے سے بڑے ابتلاء کا مردانہ وار مقابلہ کرتیں اتنے ناز و نعم اور لاڈ پیار میں اماں جان نے پالا بظاہر چھوٹا سا دل تھا لیکن کڑے وقت میں چٹان کی طرح مضبوط بن جاتیں۔خدا جانے اس وقت اتنی ہمت اتنی میں کہاں سے آجاتی۔اکثر کہا کرتیں کہ دعا اور تدبیر کو انتہا تک پہنچا دینا بندے کا کام ہے پھر اگر خدا کی طرف سے کوئی تقدیر نافذ ہوتی ہے تو اس پر راضی رہنا چاہیئے۔طبیعت میں حد درجہ کی خود داری تھی