دُختِ کرام — Page 302
۲۹۰ انکساری تھی۔نام ونمود کا شوق نام کو نہ تھا۔جب میں نے جماعت کا کام شروع کیا تو مجھے نصیحت کی کہ دیکھو کام ضرور کرد۔لیکن عہدوں کے پیچھے نہ پڑنا کے کانشا یہ تھا کہ بعض اوقات انسان عہدوں کے لالچ میں پڑ کر اصل مقصد سے ہٹ جاتا ہے خدمت دین تو بے لوث اور خدا کی خاطر ہونی چاہیئے۔اس کے بدلے میں انعام کا طالب نہیں بننا چاہیتے۔امتی کے متعلق میری سب سے اولین یاد قادیان کے دار السلام میں چبوترے پر کھڑے ایک نہایت حسین سفید لباس میں ملبوس پیکر کی ہے آپ بہت پاک شکل تھیں میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سب سے زیادہ شباہت بچوں میں آپ ہی کی تھی۔ہمارے ابا جان امی سے بے حد محبت کرتے تھے اور محبت کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی سمجھ کر ان کی عزت و اکرام بھی ملحوظ رکھتے تھے اس لیے ہم سب بچوں کے دلوں میں اتھی کی شخصیت کا ہمیشہ رعب رہا۔آبا سے امی کی نسبت زیادہ بے تکلف تھے۔میرے بڑے بہن بھائیوں میں تو آج تک اتنی جرات نہ تھی کہ علاج معالجہ کے بارہ میں بھی امی کی طبیعت کے خلاف کچھ کر سکیں ہم چھوٹے بچوں کا بچپن آیا کی بیماری کی وجہ سے کئی سال تک ابا کے ساتھ ایک ہی کرنے میں گذرا جس کی وجہ سے ہم نسبتا زیادہ بے تکلف تھے ، لیکن اس بے تکلفی نے کبھی مدادب سے تجاوز نہیں کیا۔اتی بہت خوش قسمت تھیں کہ بے انتہا محبت اور عزت کرنے والا شوہر ملا۔اور پھر بھی تمام خدمت گذار- ایک اشارے پر حاضر ہونے والی۔