دُختِ کرام — Page 300
۲۸۸ وصیت کے مطابق ہمیشہ امامت احمدیہ سے وابستہ رکھنا۔نیکی تقوی کا اعلیٰ مقام عطافرمانا اور دخت کرام کی تمام خوبیوں اور حضرت مسیح موعد السلوم کی دُعاؤں کا وارث بنانا۔اور جب ہم تیرے حضور حاضر ہوں تو ہماری جھولیوں میں ندامت کے آنسو نہ ہوں بلکہ ہماری جھولیاں میرے رب کے پیار کے انمول موتیوں سے بھری ہوتی ہوں آمین۔اب میں اپنے مضمون کو ختم کرتی ہوں مگر پیسخت تشکری ہوگی اگر ض ان تمام احباب کا شکریہ ادا نہ کروں جنہوں نے میری امی کے لیے دن رات دُعائیں کیں اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے حضور سے جزا عطا فرماتے۔اور پھر امی جو کئی سال سے مسلسل بیمار تھیں ڈاکٹر لطیف احمد صاحب نے بے حد محنت اور توجہ سے امی کا علاج کیا روزانہ امی کو دیکھنے آتے اور اگر طبیعت خراب ہوتی تو بعض اوقات دو دو تین تین دفعہ بھی تشریف لاتے تھے۔اور امی کو ان کی اتنی عادت پڑ گئی تھی کہ جب ڈاکٹر صاحب کہیں باہر جاتے تو اقی بہت گھبراتی تھیں اور عزیزم ڈاکٹر مبشر احمد صاحب جو ہمارے بھائی ڈاکٹر مرزا منو را احمد صاحب کے بڑے صاجزادے ہیں وہ بھی ڈاکٹر صاحب کیساتھ اسی کے علاج میں برابر شریک رہے۔اسی طرح جبا ر صاحب سالہا سال تک باقاعد روزانہ شام کو امی کا بلڈ پریشر چیک کرنے آتے رہے نیز لیڈی ڈاکٹر فہمیدہ میر صاحبہ اور ان کی بھاوج نے بھی ان کی بہت خدمت کی اور ان کی بہت دُعائیں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب پر فضل فرمائے اور ان کو اپنی خاص رحمتوں کا وارث بنائے۔آمین ر ماہنامہ مصباح ماه جنوری فروری شاه )