دُختِ کرام — Page 294
۲۸۲ شاہدہ دیگیم مرزا نسیم احمد صاحب کے بڑے بیٹے عزیزم نعمان احمد صاحب سے امی کی زندگی میں ہی اس کی شادی ہو گئی۔اللہ تعالیٰ اس جوڑے کو ہمیشہ خوش وخرم شاد آباد رکھے۔آمین گو ہماری بہن فوزیہ اپنی بچیوں کی تعلیم کی وجہ سے لاہور سٹیل ہوگئی۔مگر نہ اس کو اقی کے بغیر چین آتا تھا اور نہ امی کو اس کے بغیر جب بھی بچیوں کو چھٹیاں ہوتیں یا اس کے علاوہ اگر سن لیتی کہ امی کی طبیعت خراب ہے فورا ربوہ پہنچ جاتی۔اتی قریباً روزانہ فون بھی کر لیتی تھیں۔میری تین بہنیں بیگم مرزا مبارک احمد صاحب بیگم مرزا داود احمد صاحب اور بیگم مرزا مجید احمد صاحب اور میرے بھائی شاہد احمد پاشا تو مستقل ربوہ میں ہی رہتے تھے ان کا گھر بالکل اسی کے گھر کے قریب تھا اس لیے دن میں کئی دفعہ آکر چکر لگا جاتے تھے۔رات کا کھانا تو کئی سال سے مستقل امی کے ساتھ کھاتے تھے۔اس لیے امی کو ان کی بہت تستی رہتی تھی۔اس کے علاوہ ہماری بڑی بہن بیگم مرزا مبارک احمد صاحب اور بڑے بھائی عباس احمد صاحب غالباً اس لیے کہ وہ بڑے تھے امی کو ان دونوں کے آنے سے بھی بہت اطمینان اور سکون ملتا تھا۔اس کے علاوہ پیلی بیگم جن کو امی نے بچپن سے ہی پرورش کیا تھا اور پھر قادیان میں ان کی شادی اشرف صاحب سے کر دی تھی جو فوج میں ملازم تھے۔مگر پارٹیشن کے وقت قادیان کی حفاظت کے دوران وہ شہید ہوگئے میلی بیگیم نے امی کی بیماری کے دوران سات سال با قاعدگی کے ساتھ اس تعلق اور