دُختِ کرام — Page 283
بطن عطا فرماتا چلا جائے جس کے اندر سے ابن مریم پیدا ہوتے رہیں اور حاجات احمدیہ کے کامل صحت مند جسم میں قدرت ثانیہ کا ظہور انہی ابنائے مریم کے ذریعہ ہوتا رہے جو مُردوں کو زندہ کرنے والے اور بیماروں کو شفا دینے والے اور ان تمام کمالات کے مالک ہوں جو حضرت عیسی علیہ اسلام کو دیتے گئے تھے اور یہ لوگ باتباع حضرت خاتم النبیین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے روحانی پرندے پیدا کرنے والے ہوں جو نہ افلاک تک جا پہنچیں اور خدا کرے کہ ان ابنائے مریم کی اتباع سے ہم ان تمام روحانی بیماریوں سے شفا پادیں جو ہماری نفوس کی ہلاکت کا موجب بن رہی ہیں اور ہمیں ایسے بال و پر مل جائیں جو کہ نہ افلاک تک پہنچیں۔آمین یہ ایک حسن اتفاق ہے کہ جماعت احمدیہ کے مریمی لطن نے جس بزرگ خلیفہ اسیح الرابع کو جنم دیا ہے اس کی اپنی ماں کا نام بھی مریم تھا حضرت سیدہ ام طاہر مریم بیگم صاحبہ حب ان میں فوت ہوتی ہیں۔تہ تو آپ کی وفات سے چند دن پہلے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو انکشاف ہوا کہ آپ ہی مصلح موعود ہیں۔حضرت اُم ظاہر کی وفات کے بعد حضرت مصلح موعود نے چالیس دن بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر حاضر ہو کر چالیس دن لگاتار دعائیں کیں۔بہت ہی کرب اور الحاج کی یہ دعائیں تھیں۔بہت ہی سوز و گداز کا زمانہ تھا۔کسی کو اس وقت کیا معلوم تھا کہ اپنی ماں حضرت مریم کا بیٹا کسی روز جماعت احمدیہ کے مریکی بطن سے بھی ابن مریم بننے والا ہے۔شاید یہی وجہ ہو کہ اس وقت ایسی سوزو گران