دُختِ کرام — Page 281
۲۶۹ جلسہ میں صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب اور عزیز مصطفے اور یہ عاجز بھی شامل تھے۔ہم نے حضور کی تقریر کے معا بعد یہ فیصلہ کیا۔کہ ہر دو کے والدین کے نام پر ایک قرآن شریف کے ترجمہ اور اشاعت کا وعدہ لکھوائیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس مد میں ساڑھے آٹھ لاکھ روپے جمع ہو چکے ہیں۔اور ڈیڑھ لاکھ کے وعدے ابھی قابل ادا ہیں۔غالباً دولاکھ کی مزید ضرورت ہوگی۔اس سلسلہ میں اس عاجز کی اہلیہ اور بچوں نے بھر پور حصہ لیا ہے۔خدا کرے باقی رقم کی اگر کوئی کمی رہ جاتے تو وہ بھی پوری ہو جاتے تاکہ ہمارے والدین کے لیے مستقل صدقہ جاریہ قیامت تک ان کے درجات کی بلندی کا موجب بفتا ر ہے اور اس سے افراد اور قومیں ہدایت پائیں۔جو اسلام کی سربندی کا موجب نہیں۔اور ان کی کرو میں آسمان پر ہم سے خوش ہوں اور جو خوشیاں اس دنیا میں ہم دے سکتے ہیں آسمان پر انہیں مل جائیں۔ہماری والدہ مرحومہ کو یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کو حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی اکیس الله بکاف عید کے والی انگوٹھی انہوں نے آپ کے انتخاب۔۔۔۔۔کے بعد حضور کو پہنائی۔جب حضور انتخاب اور بیعت لینے کے بعد گھر تشریف لائے تو خاندان کے مردوں میں سے کسی نے کہا کہ طاہرہ صدیقہ صاحبہ یعنی حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثالث وہ انگوٹھی حضور کو پہنائیں۔مگر حضور نے بے ساختہ فرمایا۔نہیں یہ انگوٹھی پھوپھی جان روخت کرام سیده امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی پہنائیں گی۔چنانچہ یہ انگوٹھی آپ نے پہنائی اور اس کے بعد بیعت بھی گی۔