دُختِ کرام

by Other Authors

Page 275 of 497

دُختِ کرام — Page 275

۲۶۳ فروگذاشت کی وجہ سے کوئی گرفت نہ ہو جاتے یہ عاجز جب کبھی آپ کے پاس ٹھرتا۔یہی فکر میری والدہ کو لگی رہتی کہ میرے آرام اور مہمان داری میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔شدید سر درد کے دوروں میں اور دوسری تکلیف میں بھی جب کچھ ہوش آتا ملازمین سے دریافت کرتیں کہ عباس کو کھانا ناشتہ ٹھیک مایا نہیں۔فلاں فلاں چیز اسے دی گئی یا نہیں۔حضرت والدہ صاحبہ ریا خود نمائی خود بینی غرور تکبر بتی سے بالکل پاک تھیں۔بہت فیاض تھیں صدقہ و خیرات بہت کرتی تھیں۔بہت دُعا گو اور صاحب رو با و کشوف تھیں۔بین دین کی بہت کھری۔حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کے بعد اول فرصت میں اعلان اخبار الفضل میں کروا یا کرکسی کا کوئی حتی حضرت والد صاحب مرحوم کے ذمہ ہو تو ان سے ریعنی حضرت والدہ صاحبہ سے ثبوت مہیا کر کے لے لیا جائے۔اس کے بعد جس کا بھی کوئی حق ثابت ہوا دے دیا۔بغیر جواز کے اپنا حق بھی چھوڑنا پسند نہیں کرتی تھیں حتی کہ بچوں پر زور دیتی تھیں کہ نہ ہی حق چھوڑو اور نہ ہی کسی کا حق غصب کرد۔بچوں کو بار بار ٹوکنے کی عادت نہ تھی۔بہت سمجھے طریق سے حق بات ان کے کان میں ڈال دیتی تھیں۔ہماری والدہ کے نو بچے خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہیں۔تین لڑکے اور چھ لڑکیاں۔جن کی تاریخ ولادت کا ذکر کسی دوسری جگہ کیا گیا ہے۔حضرت والدہ صاحبہ کی وفات کے بعد ان کے بکس میں سے ایک وصیت ان کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ملی ہے جو آپ نے ا راگست 19