دُختِ کرام

by Other Authors

Page 256 of 497

دُختِ کرام — Page 256

۲۴۴ بھی حالات پیش آئے آپ نے ان کو بشاشت کے ساتھ برداشت کیا اور ہر رنگ میں ابا جان کا ساتھ دیا اور باوجود اس کے کہ ابا جان جیسا محبت کرنے والا اور خیال رکھنے والا قدردان خاوند حسن کی مثال منی مشکل ہے۔مگر پھر بھی اس سے کوئی ناجائز فائدہ نہیں اُٹھایا۔بلکہ اپنے فرائض پوری طرح ادا کئے اور جو خدمت ابا جان کی تیرہ سال کی طویل علالت میں کی اس کی مثال مشکل سے ملے گی۔شروع کے پانچ سال بیماری کے وہ تھے جو مسلسل بستر پر گذرے۔اس عرصہ میں ابا جان کو شدید بیماریاں آئیں۔امی جان نے ٹرینڈ نوسوں کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ابا جان کا خیال رکھا۔ڈاکٹر یوسف صاحب جو کہ ابا جان کے مستقل معالج تھے ابا جان کو کہا کرتے تھے نواب صاحب ہم ڈاکٹر آپس میں باتیں کرتے ہیں کہ آج تک کسی مریض کا ایسا علاج نہیں ہوا۔اور نہ ایسی نرسنگ ہوتی ہے۔اگر آپ دو زمیں بھی رکھتے تو آپ کو ایسی نرسنگ نہیں بن سکتی تھی اتنا صاف اور اتنا باقاعدگی کا کام تھا کہ یوں لگتا تھا کہ کوئی ٹرینڈ نرس کر رہی ہے۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔بیماریوں کے دوران کئی دفعہ ابا جان کو ہسپتال بھی داخل ہونا پڑا۔وہاں بھی امی جان کو نرسوں کا کام پسند نہیں آتا تھا۔ڈاکٹر سے اجازت لیکر دوائیاں وغیرہ سب اپنے زمرے نیتی تھیں۔پارٹیشن کے فوراً بعد شاہ میں ابا جان کو شد قسم کا ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔اس وقت ایک تو ویسے سب کے مالی حالات خراب تھے۔اکثر جا ئیدادیں وغیرہ اُدھر رہ گئیں تھیں گھر بار چھوڑ کر آتے تھے۔ایک ایک کمرہ میں سب رہ رہے تھے اُوپر سے