دُختِ کرام — Page 252
۲۴۰ کسی کو اپنی پوزیشن بھی کلیر کرنی مشکل ہو جاتے۔اور بہت بعد میں بھی اکثر باجی جان اس بات کا مجھ سے تذکرہ کر کے پھرنئے سرے سے مجھے سرا نہیں۔حالانکہ یہ کوئی غیر معمولی چیز نہ تھی۔میرا ایک فرض تھا جو میں نے جیسے بھی بن پڑا ادا کیا ، لیکن قدر دان اور قدر شناس وہی ہوتے ہیں جو خود خدا تعالیٰ کے نزدیک اہم شخصیتیں ہوتی ہیں۔اور پھر جیسا کہ میں نے کریں بعد میں سنا کہ باجی جان نے کئی دفعہ تعریفی کلمات میں اس کا تذکرہ کیا۔اور یہ سب میں سمجھتی ہوں کہ چونکہ میں نا تجربہ کار تھی۔اپنے ان تمام واقعات میں میری حوصلہ افزائی اعلیٰ طریق پر کرتے ہوتے میری دلجوئی بھی کی اور میری راہنمائی بھی کی۔مگر کس قدر حسین طریقی ہے۔اسی طرح ایک دفعہ رتن بارغ لا ہور قیام کے دوران کسی بچے کو کوئی معمولی سازیور بنوانا تھا یا بنا بنا یا خریدنا تھا اور وہ زیورہ ایک مہین تک ہی محدود تھا۔سیدنا حضرت فضل عمر نے دفتر سے کہہ کروہ لاکٹ منگوایا تاکہ خریدنے والے کو دکھا کر اس کی پسندیدگی پر اسے لے دیا جائے۔اب جب وہ ڈبے میں لگا ہوا لاکٹ آیا تو انہوں نے توڑیے ہی میں دیکھ کر مجھے اور باقی جان کو جو اتفاق سے وہیں کھڑی تھیں۔فرمایا۔تم لوگ دیکھو اگر خریدنے والے کے مناسب حال ہے تو لے لیا جائے میں نے جو اس چین کو پوری احتیاط اور آرام سے ہاتھ میں پکڑا تو اس کے دو ٹکڑے ہوگئے۔اس پر یہ ناراض ہوئے کہ بیگانی چیز توڑ دی۔اور میں حیران تھی کہ کس قسم کا زیور یا زنجیر ہے جو ہاتھ میں پکڑے