دُختِ کرام — Page 248
راولپنڈی کی جماعت کی اکثر خواتین اور مقامی لوگوں اور ملنے والوں کی آمد و رفت رہتی مری میں رہنے والے اپنی جماعت کی خواتین کی بھی آمد و رفت برابر رہتی اور باہر گاڑیاں بھی ان لوگوں کی پارک رہتیں۔آپ سوچ سکتے ہیں کہ ان چند گھڑیوں کے قیام کے دوران حضرت با جی جان کی کتنی اور کس قدر تواضع کر سکتی تھی ، مگر با جی جان تھیں کہ ہر بات پر میری تعریف کئے جاتی تھیں۔جب واپس جانے لگیں تو بہت پیار سے مجھے گلے لگایا اور فرمایا۔بشری میں سچ کہتی ہوں تمہارے پاس آکر مجھے بڑا ہی لطف آیا ہے۔تم نے جنگل میں منگل بنا رکھا ہے لو اب خدا حافظ یہ کہ کر آپ واپس چلی گئیں میں بہت دیر تک آپ کے جانے کے بعد سوچتی رہی کہ باجی جان کس قدر شفیق ہیں۔کس طرح میری دلداری کی اور کسی طور سے میرے مستقبل کی راہنمائی کرتی چلی گئیں۔آپ کا یہ انداز کتنا خوبصورت تھا۔پیار ہی پیار میں ہلکے پھلکے طریق پر آپ نے بھلائی کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے تعریفی کلمات سے اس طرح نوازا کہ وہ سب میرے لیے مشعل راہ اصل میں تھا۔میرے سیزن گزار کر واپسی پر اکثر عزیزوں نے مجھے بتایا کہ ہر آیا با جی جان نے واپس آکر آپ کی اتنی تعریفیں کیں اور اس قدر آپ کا پیار سے ذکر کیا۔اور دوران قیام مری میں مجھے بعض عزیزوں کے خطوط ملے جن میں یہی ذکر تھا۔میرے نزدیک بڑے بزرگ اور اہم شخصیتیں اپنے سے چھوٹے عزیز و اقارب اور اور پھر پبلک کی اسی طریقی پر تربیت کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے