دُختِ کرام

by Other Authors

Page 246 of 497

دُختِ کرام — Page 246

۲۳۴ عزیزہ امتہ الباری عباس نے بتایا کہ ہر آیا۔پھوپھی جان نے یہ بات اتنی دفعہ دہرائی کہ میں نفسی ضبط نہ کرسکی۔اور میں نے کہا مہر آیا کی بھی خدمت اور دیکھ بھال رہی کریں گے ہو اس وقت آپ کی کر رہے ہیں آپ تو اچھی ہو جائیں آپ فکر کیوں کر رہی ہیں۔عزیزہ باری کہتی ہیں کہ یہ بات میں نے جب اچھی طرح ذہن نشین کر دی تو آپ خاموش ہو گئیں۔میں نے باری سے کہا دیکھو بڑے بزرگوں کی باتیں نہیں تو ہوتی ہیں جو امتیازی شان رکھتی ہیں ان کو ایسی تکلیف میں میرا خیال کس طرح آیا۔اور پھر تمہارے جواب پر پرسکون ہو گئیں، ظالم ! یہ موقع تھا کہ تم بجائے اس کے کہ یہ بات کہتیں کہ پھوپھی جان اگر آپ کو ان کا اس قدر خیال اور فکر ہے تو آپ ان کے لیے یہ دعا کرتی رہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو اس قسم کی کسی آزمائش سے دوچار نہ کرے وہ چلتے پھرتے ہی خدا کے حضور پہنچے۔باری کسقدر یہ اہم موقع تھا اگر تم جواب میں میرے لیے دعا کی یہ تحریک کر دیتیں۔میری شومئی قسمت که جب آپ کی کو بھی مکمل ہو گئی تو میں نے با جی جان سے کہا۔میں بہت خوش اور مطمئن ہو گئی ہوں۔آپ میرے پاس آگئی ہیں۔مجھے آپ کے پاس آنے میں کوئی وقت نہ ہوگی۔اس طرح ہم باہم آسانی سے ملتے رہیں گے ، لیکن میری طبیعت ہائی بلڈ پریشر سے کچھ اس طرح مضمل رہی کہ ایسا ممکن نہ ہو سکا اور با حجا جان خود ایسی منار فراش ہوتیں کہ بالکل بستر ہی کی ہوگئیں اور آپ کی طبیعت ایسی کمزور ہوئی کہ بعض اوقات ہم لوگ۔اگر میرا بھی جانا مکن ہو جاتا تو ان کی تکلیف